Volvo کا Nvidia Hyperion، Halos اور Alpamayo پر مبنی مستقبل کی گاڑیوں کے لیے خودکار ڈرائیونگ کا منصوبہ
Volvo Cars کا کہنا ہے کہ اگلی نسل کا ایک ماڈل Nvidia کے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر پر نگرانی والی نقطے سے نقطے تک ڈرائیونگ متعارف کرائے گا، بعد میں سڑک سے نظر ہٹانے والے فنکشنز کا منصوبہ ہے اور لانچ کا ہدف دہائی کے اختتام سے پہلے رکھا گیا ہے۔

اہم نکات
- 1مستقبل کی Volvo گاڑیاں Nvidia کے Hyperion کمپیوٹنگ اور سینسر پلیٹ فارم، Halos OS حفاظتی پرت اور Alpamayo سافٹ ویئر پر چلیں گی۔
- 2Technology.org کے مطابق پہلا ورژن نگرانی والی ڈرائیونگ کے طور پر منصوبہ بند ہے؛ کمپنیوں نے کہا کہ ”eyes-off“ اور ”mind-off“ فنکشنز بتدریج شامل کیے جائیں گے۔
- 3یہ نظام اگلی نسل کی ایک بے نام Volvo گاڑی میں پہلی بار پیش ہوگا؛ Volvo کے سافٹ ویئر انجینئرنگ کے سربراہ نے کہا کہ لانچ دہائی کے اختتام سے پہلے ہوگا۔
- 4دی ورج کے مطابق ابتدا میں یہ لیڈار کے بغیر لیول 2++ نظام ہوگا، جو Ride Pilot اور لیڈار سپلائر لومینار کے معاملے میں Volvo کی ناکامیوں کے بعد آ رہا ہے۔
- 5Technology.org کے مطابق لانچ چین کے سوا کئی خطوں میں ہوگا، اور دستیابی مہنگے یا بیٹری الیکٹرک ماڈلز تک محدود نہیں ہوگی۔
مکمل خبر
Volvo Cars نے 15 اکتوبر کو اعلان کیا کہ وہ اپنی مستقبل کی گاڑیوں کے لیے خودکار ڈرائیونگ تیار کرنے کے لیے Nvidia کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری کو وسعت دے رہی ہے۔ اعلان کے مطابق، Volvo اپنی گاڑیوں کے حفاظتی نظاموں اور انجینئرنگ کو Nvidia کے تین اجزاء کے ساتھ جوڑے گی: Hyperion سینسر اور کمپیوٹنگ آرکیٹیکچر، Halos OS حفاظتی پرت اور Alpamayo ڈرائیونگ سافٹ ویئر۔ کمپنیوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد گاڑیوں کو دروازے سے دروازے تک کے سفر سنبھالنے کے قابل بنانا ہے، جس میں ہائی ویز، شہر کی پرہجوم سڑکیں اور پارکنگ شامل ہیں۔ اس نظام والی کوئی گاڑی ابھی فروخت کے لیے دستیاب نہیں ہے۔
یہ نظام اگلی نسل کی ایک ایسی Volvo گاڑی میں پہلی بار پیش کیا جانا ہے جس کا نام نہیں بتایا گیا اور جو کار ساز کمپنی کے بقول اس کی اب تک کی سب سے بڑی مصنوعاتی مہم کا حصہ ہے۔ Technology.org کے مطابق، پہلا ورژن نگرانی والی ڈرائیونگ پیش کرے گا، یعنی گاڑی کی ذمہ داری ڈرائیور پر ہی رہے گی، اور Volvo کا ارادہ ہے کہ 2030 سے پہلے مرحلہ وار شہروں اور ہائی ویز پر ہینڈز فری آپریشن شامل کیا جائے۔ Volvo اور Nvidia کا کہنا ہے کہ ”eyes-off“ (سڑک سے نظر ہٹانے کی اجازت) اور ”mind-off“ (توجہ ہٹانے کی اجازت) ڈرائیونگ وقت کے ساتھ مرحلہ وار متعارف کرائی جائے گی۔ Volvo Cars میں سافٹ ویئر انجینئرنگ کے سربراہ ایلون بیکنس نے دی ورج کو صرف اتنا بتایا کہ لانچ ”دہائی کے اختتام سے پہلے“ ہوگا، اور کمپنی نے نہ پہلے ماڈل کا نام بتایا ہے اور نہ کوئی تاریخ۔
دی ورج نے رپورٹ کیا کہ Volvo نقطے سے نقطے تک ڈرائیونگ کے اس نظام کو لیول 2++ کے طور پر درجہ بند کرتی ہے، جس کا مطلب، اس اشاعت کے بقول، یہ ہے کہ یہ ٹریفک سگنلز، اسٹاپ کے نشانات اور ایسے بائیں موڑ جن کے لیے سگنل کا الگ مرحلہ نہیں ہوتا، ڈرائیور کے واضح طور پر کنٹرول میں ہوئے بغیر سنبھال سکتا ہے، اور اس کا موازنہ ٹیسلا کے Full Self-Driving (Supervised) سے کیا۔ Nvidia کے آٹوموٹو کاروبار کے سربراہ علی کانی نے اشاعت کو بتایا کہ یہ اس Nvidia پر مبنی نظام سے بھی مشابہ ہوگا جو مرسڈیز بینز نے حال ہی میں نئی CLA میں متعارف کرایا ہے۔ دی ورج کے مطابق، ابتدائی ترتیب میں لیڈار استعمال نہیں ہوگا، اگرچہ Volvo بعد میں یہ سینسر شامل کر سکتی ہے۔ اشاعت نے رپورٹ کیا کہ Volvo اپنے ڈرائیور کی حالت کی نگرانی اور فہم کے نظام اور کنیکٹڈ سیفٹی ٹیکنالوجی بھی فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جو گاڑیوں کو سڑک پر تعمیراتی کام جیسے خطرات کی معلومات ایک دوسرے سے شیئر کرنے دیتی ہے۔
دی ورج نے اس معاہدے کو پہلے کی ناکامیوں سے سنبھلنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا۔ اس نے رپورٹ کیا کہ Volvo نے ریگولیٹری منظوری حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد امریکہ میں اپنے Ride Pilot لیول 3 بغیر نگرانی والے نظام کو عملاً پس پشت ڈال دیا، اور یہ کہ کچھ ماڈلز میں لیڈار نصب کرنے کا منصوبہ اس کے سپلائر لومینار کے دیوالیہ ہونے کے بعد ترک کر دیا گیا۔ Technology.org نے رپورٹ کیا کہ Volvo یہ فیچرز کئی خطوں میں بیک وقت لانچ کرے گی لیکن چین میں نہیں، حالانکہ کار ساز کمپنی کی اکثریتی ملکیت چین کی گیلی کے پاس ہے۔ قیمتوں کا ماڈل ابھی منتخب نہیں کیا گیا، لیکن بیکنس نے کہا کہ یہ فیچرز صرف مہنگی گاڑیوں کے لیے مخصوص نہیں ہوں گے، اور اسی اشاعت کے مطابق یہ نظام Volvo کی بیٹری الیکٹرک ماڈلز کی رینج سے آگے بھی پھیلے گا۔
اعلان میں Volvo کے چیف ایگزیکٹو ہاکان سیموئلسن نے کہا کہ حفاظتی علم اور اے آئی ٹیکنالوجی کا امتزاج ”زیادہ محفوظ اور زیادہ پرکشش گاڑیاں“ بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ Nvidia کے بانی اور سی ای او جینسن ہوانگ نے کہا کہ شراکت داروں کا مقصد ایسی گاڑیاں بنانا ہے جو ڈرائیونگ کو ”زیادہ محفوظ اور زیادہ آسان“ بنائیں۔ Technology.org نے کانی کے حوالے سے بتایا کہ Nvidia کا ماننا ہے کہ Volvo کے ساتھ کام کرنے سے اس کا اسٹیک زیادہ محفوظ ہو جائے گا، اور انہوں نے دی ورج کو بتایا کہ نقطے سے نقطے تک ڈرائیونگ تجارتی لحاظ سے صرف ہائی ویز تک محدود معاونت سے زیادہ قیمتی ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں کمپنیاں 2017 سے تعاون کر رہی ہیں۔ اب تک بیان کردہ حفاظت اور صلاحیت کے اہداف ایک ایسے نظام کے بارے میں کمپنیوں کے بیانات ہیں جو ابھی تک صارفین تک نہیں پہنچا۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ معاہدہ کار ساز کمپنیوں کو خودکار ڈرائیونگ اسٹیکس فراہم کرنے والے کے طور پر Nvidia کے کردار کو وسعت دیتا ہے اور، دی ورج کے مطابق، پہلے کے آٹومیشن منصوبے رک جانے کے بعد Volvo کو ایک نیا راستہ دیتا ہے۔ یہ نظام کمپنیوں کے حفاظتی دعووں پر پورا اترتا ہے یا نہیں، یہ صرف اسی وقت واضح ہوگا جب یہ صارفین تک پہنچے گا۔
ٹائم لائن
· شائع شدہ
موضوعات#Volvo Cars#Nvidia#خودکار ڈرائیونگ#ڈرائیور معاونت#Hyperion#آٹوموٹو اے آئی
ذرائع
یہ خبر درج ذیل ماخذوں پر مبنی ہے۔ مکمل سیاق کے لیے انہیں پڑھیں۔
- 1NVIDIA Newsroom · سرکاری بیانVolvo Cars and NVIDIA Expand Partnership to Advance Safe Automated Drivingnvidianews.nvidia.com
- 2The Verge · خبری رپورٹVolvo will use Nvidia's tech for hands-free, point-to-point drivingwww.theverge.com
- 3Technology.org · خبری رپورٹVolvo Cars Expands Nvidia Partnership for Hands-Free Automated Drivingwww.technology.org



