ہبل کی تصویر میں سیٹلائٹ کہکشاؤں کے سروے کے حصے کے طور پر کنارے سے نظر آنے والی مرغولہ کہکشاں NGC 1827 دکھائی گئی
NASA نے NGC 1827 کی ہبل خلائی دوربین سے لی گئی تصویر جاری کی ہے، جو تقریباً 37 ملین نوری سال دور کنارے سے نظر آنے والی ایک مرغولہ کہکشاں ہے اور جسے ملکی وے جیسی میزبان کہکشاؤں کے گرد کم کمیت والی سیٹلائٹ کہکشاؤں کے سروے کے دوران لیا گیا۔

اہم نکات
- 1NGC 1827 کبوتر (Columba) کے جھرمٹ میں تقریباً 37 ملین نوری سال دور کنارے سے نظر آنے والی ایک درمیانی مرغولہ کہکشاں ہے۔
- 2Advanced Camera for Surveys سے لی گئی ہبل کی تصویر میں گرد کی پٹیاں، ستارے بنانے والے نیلے علاقے اور چار تفریقی کرنوں والا پیش منظر کا ایک ستارہ دکھائی دیتا ہے۔
- 3یہ مشاہدہ تقریباً 32 ملین نوری سال کے اندر ملکی وے جیسی 22 میزبان کہکشاؤں کے گرد 260 سیٹلائٹ کہکشاؤں کے سروے کا حصہ ہے۔
- 4ہبل 111 سیٹلائٹ کہکشاؤں کا مشاہدہ کر چکی ہے؛ باقی کے لیے مزید 149 مداری چکر درکار ہیں، ہر کہکشاں کے لیے ایک۔
- 5NASA کا کہنا ہے کہ کم کمیت والی کہکشائیں چھوٹے پیمانوں پر کائناتی ماڈلوں کو جانچنے میں مدد دیتی ہیں، جہاں پیش گوئیوں کو مشاہدات سے مطابقت میں دشواری ہوتی ہے۔
مکمل خبر
NASA نے 16 اکتوبر کو ہبل خلائی دوربین کی ایک نئی تصویر جاری کی جس میں NGC 1827 دکھائی گئی ہے، جو کنارے سے نظر آنے والی ایک درمیانی مرغولہ کہکشاں ہے۔ NASA کے مطابق یہ کہکشاں زمین سے تقریباً 37 ملین نوری سال کے فاصلے پر کبوتر (Columba) کے جھرمٹ میں واقع ہے۔ کنارے سے دیکھنے پر اس کی زنگ آلود بھوری گرد کی پٹیاں پوری لمبائی میں ڈسک کو کاٹتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
یہ تصویر ہبل کے Advanced Camera for Surveys سے لی گئی۔ NASA کا کہنا ہے کہ اس میں ڈسک کے ساتھ ساتھ روشن نیلے علاقے دکھائی دیتے ہیں، جنہیں گرد کی تاریک پٹیاں تقسیم کرتی ہیں، اور جن میں غالباً نئے ستارے بن رہے ہیں۔ کہکشاں کے مرکزی ابھار کے بالکل بائیں جانب ایک روشن ستارہ موجود ہے، لیکن یہ پیش منظر کا ایک جرم ہے جو زمین اور NGC 1827 کے درمیان واقع ہے۔ اس کی چار تفریقی کرنیں (ڈفریکشن اسپائکس) اس روشنی سے پیدا ہوتی ہیں جو دوربین کے اندر ان سہاروں (اسٹرٹس) کے گرد مڑتی ہے جو ہبل کے ثانوی آئینے کو تھامے ہوئے ہیں۔ فریم میں موجود پیش منظر کے دیگر ستاروں کو انہی کرنوں سے پہچانا جا سکتا ہے، جبکہ زیادہ دور کی کہکشائیں تاریک پس منظر میں بکھری ہوئی ہیں۔
یہ مشاہدہ ہبل کے ایک سروے کا حصہ ہے جس میں ملکی وے سے ملتی جلتی 22 میزبان کہکشاؤں کے گرد 260 سیٹلائٹ کہکشاؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جو سب زمین سے تقریباً 32 ملین نوری سال کے اندر واقع ہیں۔ اب تک ہبل ان میں سے 111 سیٹلائٹ کہکشاؤں کا مشاہدہ کر چکی ہے۔ NASA کے مطابق باقی اہداف کے لیے ہبل کے مزید 149 مداری چکروں کی ضرورت ہوگی، جن میں ہر کہکشاں کے لیے ایک چکر مختص ہے۔
NASA کا کہنا ہے کہ اس مشاہداتی پروگرام میں شامل کم کمیت والی کہکشائیں یہ جانچنے کا ایک طریقہ فراہم کرتی ہیں کہ کائناتی ماڈل چھوٹے پیمانوں پر کیا پیش گوئی کرتے ہیں، جہاں ان ماڈلوں کو مشاہدات سے مطابقت میں دشواری پیش آتی ہے۔ ادارے کو توقع ہے کہ یہ ڈیٹا محققین کو ملکی وے جیسی میزبان کہکشاؤں کے گرد کم کمیت والی کہکشاؤں کی خصوصیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گا اور اس کے نتیجے میں کائناتی ماڈلوں کو بہتر بنایا جا سکے گا۔ تصویر کا کریڈٹ NASA، ESA اور کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے مائیکل جونز کو دیا گیا ہے، جبکہ تصویر کی پروسیسنگ NASA اور کیتھولک یونیورسٹی آف امریکہ کی گلیڈس کوبر نے کی۔
یہ کیوں اہم ہے
کائناتی ماڈلوں کو چھوٹے پیمانوں پر، جیسے کم کمیت والی کہکشاؤں کے پیمانے پر، مشاہدات سے مطابقت میں دشواری پیش آتی ہے۔ NASA کے مطابق ملکی وے جیسی میزبان کہکشاؤں کے گرد سیٹلائٹ کہکشاؤں کی ہبل کی منظم مردم شماری محققین کو ان نظاموں کی خصوصیات متعین کرنے اور ماڈلوں کو بہتر بنانے کے لیے ایک بڑا اور یکساں ڈیٹا سیٹ فراہم کرتی ہے۔
ٹائم لائن
· شائع شدہ
موضوعات#ہبل خلائی دوربین#NASA#NGC 1827#کہکشائیں#کونیات#فلکیات
ذرائع
یہ خبر درج ذیل ماخذوں پر مبنی ہے۔ مکمل سیاق کے لیے انہیں پڑھیں۔



