امریکہ نے مائیکروسافٹ، ایڈوبی اور چھ بڑی آئی ٹی کمپنیوں کو گرین کارڈ سے متعلق مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام سے معطل کر دیا
محکمہ محنت کے سربراہ کیتھ سونڈرلنگ نے کہا کہ محکمہ ان آٹھ کمپنیوں سے نئی درخواستیں لینا بند کر دے گا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے خاص طور پر مائیکروسافٹ کا نام لیا، جس نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اہم نکات
- 1امریکی محکمہ محنت مائیکروسافٹ، ایڈوبی، کیپ جیمنی، کوگنیزنٹ، ایچ سی ایل، انفوسس، ٹاٹا اور وپرو کو اپنے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام سے معطل کر رہا ہے۔
- 2محکمہ محنت کے سربراہ کیتھ سونڈرلنگ نے کہا کہ ان کمپنیوں سے متعلق کوئی نئی درخواست قبول نہیں کی جائے گی؛ TechCrunch کی رپورٹ کے مطابق، زیر التوا درخواستیں بھی متاثر ہیں۔
- 3سونڈرلنگ نے مائیکروسافٹ اور ایڈوبی کی معطلی کی وجہ متعدد جاری وفاقی تحقیقات بتائی۔
- 4نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ کسی بھی کمپنی نے مائیکروسافٹ سے زیادہ اس پروگرام کا غلط استعمال نہیں کیا، اور انہوں نے 2025 میں کمپنی کی 6,000 برطرفیوں کا حوالہ دیا۔
- 5پہلی رپورٹیں شائع ہونے تک مائیکروسافٹ اور ایڈوبی نے معطلی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔
مکمل خبر
امریکی محکمہ محنت مائیکروسافٹ، ایڈوبی اور چھ بڑی آئی ٹی کمپنیوں کو اپنے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (permanent labor certification program، PERM) سے معطل کر رہا ہے۔ محکمے کے سربراہ کیتھ سونڈرلنگ نے جمعرات، 8 اکتوبر 2026 کو نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔ آجر اس پروگرام کو ایسے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے استعمال کرتے ہیں جو بعد میں امریکہ میں مستقل طور پر رہ سکتے ہیں؛ دی ورج کے مطابق، یہ ان ملازمتوں کے لیے ہے جن کے لیے کافی امریکی کارکن دستیاب نہیں ہوتے۔ CNBC اس قدم کو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے امیگریشن اور غیر ملکی بھرتی کے پروگراموں کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع تر کوششوں کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
مائیکروسافٹ اور ایڈوبی کے علاوہ، معطلی کے دائرے میں کیپ جیمنی، کوگنیزنٹ، ایچ سی ایل، انفوسس، ٹاٹا اور وپرو بھی شامل ہیں۔ سونڈرلنگ نے کہا کہ محکمہ ان آجروں کے لیے اس پروگرام کے تحت اب نہ تو کوئی نئی درخواست قبول کرے گا اور نہ ہی اس پر کارروائی کرے گا؛ TechCrunch کی رپورٹ کے مطابق، زیر التوا درخواستیں بھی اس میں شامل ہیں۔ CNBC کے مطابق، مائیکروسافٹ اور ایڈوبی کے معاملے میں سونڈرلنگ نے اس کی وجہ “متعدد جاری وفاقی تحقیقات” بتائی۔ رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ معطلی کتنے عرصے تک رہے گی۔
سونڈرلنگ نے اس قدم کی حمایت میں اعداد و شمار پیش کیے۔ CNBC کے نقل کردہ بیان کے مطابق، انہوں نے کہا کہ 2009 سے معطل کی گئی کمپنیوں نے مجموعی طور پر تقریباً 3 ملین غیر ملکی کارکنوں کی درخواست کی تھی اور انہیں 230,000 سے زیادہ H-1B ویزا منظوریاں اور 100,000 سے زیادہ مستقل لیبر سرٹیفیکیشنز ملیں، جنہیں انہوں نے امریکی کارکنوں سے لی گئی ملازمتیں قرار دیا۔ دی ورج یہی اعداد و شمار صرف مائیکروسافٹ اور ایڈوبی سے منسوب کرتا ہے۔ وینس نے دعویٰ کیا کہ یہ پروگرام دھوکہ دہی سے “بھرا ہوا” ہو گیا ہے اور کسی بھی کمپنی نے مائیکروسافٹ سے زیادہ اس کا “غلط استعمال” نہیں کیا۔
وینس نے 2025 میں مائیکروسافٹ کی جانب سے کی گئی 6,000 برطرفیوں کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ کمپنی نے ان کارکنوں کی جگہ H-1B ویزا رکھنے والوں کو رکھا۔ دی ورج کے مطابق، انہوں نے یہ بھی کہا کہ مائیکروسافٹ نے 6,300 H-1B ویزوں سے فائدہ اٹھایا، اور ساتھ ہی تقریباً 3,000 گرین کارڈز سے بھی۔ وینس نے کہا کہ انتظامیہ اب بھی مائیکروسافٹ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے، لیکن جب تک کمپنی یہ نہیں دکھاتی کہ وہ امریکی کارکنوں کو ترجیح دیتی ہے، تب تک وہ مستقل رہائش کے لیے اس کی درخواستیں روکے رکھے گی۔ انہوں نے کہا، “مائیکروسافٹ کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے: آپ ایک عظیم امریکی کمپنی ہیں، لیکن آپ کو عظیم امریکی کارکنوں کو ملازمت دینی ہوگی۔”
یہ اعلان اسی سربراہی اجلاس میں ہوا جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیا نڈیلا کو نیشنل میڈل آف سائنس سے نوازنے والے تھے؛ CNBC کی رپورٹ کے مطابق، دیگر اعزاز پانے والوں میں اینویڈیا کے جینسن ہوانگ، ایلون مسک اور اے ایم ڈی کی لیزا سو شامل ہیں، جو سب تارکین وطن کے طور پر امریکہ آئے تھے۔ TechCrunch کے مطابق، وینس نے یہ بھی کہا کہ ہارورڈ، ییل اور اسٹینفورڈ سمیت نو یونیورسٹیوں کی بین الاقوامی طلبہ کے لیے ایک پروگرام کے استعمال کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکی اجرتوں کو کم کر رہا ہے۔ جب CNBC اور TechCrunch نے اپنی خبریں شائع کیں، اس وقت تک مائیکروسافٹ اور ایڈوبی نے ان اداروں کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا تھا، اور مائیکروسافٹ نے دی ورج کو بھی جواب نہیں دیا تھا۔
یہ کیوں اہم ہے
مستقل لیبر سرٹیفیکیشن وہ راستہ ہے جس کے ذریعے امریکی آجر غیر ملکی کارکنوں کو مستقل رہائش کے لیے اسپانسر کرتے ہیں، اس لیے یہ معطلی سافٹ ویئر اور آئی ٹی سروسز کی چند سب سے بڑی کمپنیوں کے لیے اس پروگرام کے ذریعے نئے گرین کارڈ اسپانسرشپ کا راستہ بند کر دیتی ہے۔ TechCrunch کے حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ منظور شدہ H-1B ویزوں میں سے تقریباً تین چوتھائی بھارت کے کارکنوں کو ملتے ہیں۔ اہم تفصیلات ابھی واضح نہیں: رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ معطلی کتنے عرصے تک رہے گی، وفاقی تحقیقات کس بارے میں ہیں، یا اس عمل میں شامل موجودہ ملازمین کس طرح متاثر ہوں گے، اور کمپنیوں نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔
ٹائم لائن
· شائع شدہ
موضوعات#مائیکروسافٹ#ایڈوبی#امیگریشن#H-1B#گرین کارڈ#امریکی محکمہ محنت
ذرائع
یہ خبر درج ذیل ماخذوں پر مبنی ہے۔ مکمل سیاق کے لیے انہیں پڑھیں۔
- 1CNBC · خبری رپورٹU.S. suspends Microsoft, Adobe from green-card labor program in foreign worker crackdownwww.cnbc.com
- 2TechCrunch · خبری رپورٹUS bars Microsoft, Adobe, and major IT firms from green card program for skilled foreign workerstechcrunch.com
- 3The Verge · خبری رپورٹTrump administration says Microsoft 'abused' worker visa program and is cutting off accesswww.theverge.com



