Google Cloud نے انٹرپرائز کام کے لیے Gemini ایجنٹ کا اعلان کیا، فی الحال پرائیویٹ پری ویو میں
Google کا کہنا ہے کہ یہ ایجنٹ Gemini Enterprise ایپ، Workspace اور تھرڈ پارٹی سروسز میں کام سنبھالتا ہے اور ہر کام کے لیے ایک ماڈل منتخب کرتا ہے۔ فی الحال یہ پرائیویٹ پری ویو میں صرف انٹرپرائز صارفین تک محدود ہے۔

اہم نکات
- 1Google Cloud نے Gemini at Work 2026 میں Gemini ایجنٹ کا اعلان کیا اور اسے “کام کے لیے ایک یونیورسل ایجنٹ” قرار دیا۔
- 2Google کا کہنا ہے کہ ایجنٹ کاموں کی منصوبہ بندی کرتا ہے، اسکلز اور ٹولز استعمال کرتا ہے، کاروباری سسٹمز سے جڑتا ہے اور ہر کام کے لیے موزوں ماڈل منتخب کرتا ہے؛ 9to5Google کی رپورٹ کے مطابق فی الحال اس سے مراد Gemini اور Claude فیملیز ہیں۔
- 3یہ Gemini Enterprise ایپ میں، Gmail اور Docs جیسی Workspace ایپس کے اندر، اور Slack یا Microsoft 365 جیسی تھرڈ پارٹی ایپس میں کام کرتا ہے، جبکہ دیگر ایپلیکیشنز کے لیے ایک API بھی موجود ہے۔
- 4ایجنٹ کئی مراحل والے کاموں پر سب ایجنٹس کو مربوط کر سکتا ہے اور Google کے مطابق سیشن، سیمینٹک، پروسیجرل اور ایپی سوڈک میموری استعمال کرتا ہے۔
- 5یہ انٹرپرائز صارفین کے لیے پرائیویٹ پری ویو میں ہے؛ 9to5Google کی رپورٹ کے مطابق منتخب Workspace Business اور Enterprise پلانز کے لیے وسیع تر دستیابی جلد آ رہی ہے۔
مکمل خبر
جمعرات کو اپنی Gemini at Work 2026 تقریب میں Google Cloud نے Gemini ایجنٹ کا اعلان کیا، جسے کمپنی “کام کے لیے ایک یونیورسل ایجنٹ” قرار دیتی ہے۔ Google کا کہنا ہے کہ اس ٹول کا مقصد یہ ہے کہ کام ایک ہی پرامپٹ باکس سے شروع ہو سکے، اور یہ کسی ادارے کے کاروباری سیاق و سباق سے مدد لے کر سوالات کے جواب دے، نالج ورک سنبھالے، مواد تیار کرے اور کوڈ لکھے۔ Google کے مطابق یہ ایجنٹ کاموں کی منصوبہ بندی کرتا ہے، اسکلز اور ٹولز استعمال کرتا ہے، Cloud صارفین کے کاروباری سسٹمز سے جڑتا ہے اور مکمل نتائج انہی دستاویزات، ان باکس اور ڈویلپر ماحول میں واپس پہنچاتا ہے جہاں لوگ پہلے سے کام کرتے ہیں۔
The Verge کی رپورٹ کے مطابق یہ ایجنٹ Gemini Enterprise ایپ کے اندر پیش کیا جائے گا، جہاں صارفین ایک ہی انٹرفیس سے اس کے ساتھ چیٹ کر سکتے ہیں اور اسے کام سونپ سکتے ہیں۔ یہ Gmail، Drive، Docs، Sheets اور Calendar جیسی Workspace ایپس کے اندر براہ راست بھی کام کر سکتا ہے، اور اس تک فونز، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز اور ویب کے علاوہ Slack یا Microsoft 365 جیسی تھرڈ پارٹی ایپس کے ذریعے بھی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ The Verge کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ کلاؤڈ میں چلتا ہے، اس لیے منسلک ڈیوائسز پر یکساں سیاق و سباق برقرار رکھتا ہے۔ 9to5Google مزید بتاتا ہے کہ صارفین Gmail، Google Docs، Sheets، Slides اور Chat میں @Gemini کا ذکر کر کے اسے بلا سکتے ہیں، اور ایک API کے ذریعے اسے ہیڈلیس ایجنٹ کے طور پر تھرڈ پارٹی ایپلیکیشنز میں شامل کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے اس کے اپنے یوزر انٹرفیس کی ضرورت نہیں ہوتی۔
9to5Google کے نقل کردہ الفاظ کے مطابق Google کا پیغام یہ ہے کہ صارفین “اسے ہدایات نہیں، اہداف دیں”۔ 9to5Google کے مطابق ایجنٹ ہر کام اس ماڈل پر چلاتا ہے جو اس کے لیے سب سے موزوں ہو؛ اس وقت ان میں Gemini اور Claude ماڈل فیملیز شامل ہیں، جبکہ دیگر پرائیویٹ اور اوپن ماڈلز کی سپورٹ کا منصوبہ ہے۔ کئی مراحل پر مشتمل کام کے لیے یہ سب ایجنٹس پر انحصار کرتا ہے اور مراحل کو متوازی یا ترتیب وار انداز میں ایسی مدت کے دوران مربوط کرتا ہے جو گھنٹوں یا دنوں تک پھیل سکتی ہے، اور Google چار قسم کی میموری بیان کرتا ہے: سیشن، سیمینٹک، پروسیجرل اور ایپی سوڈک۔ The Verge کی رپورٹ کے مطابق Gemini ایک مخصوص شناخت اور اپنے ای میل ایڈریس کے ساتھ ساتھی کارکن ایجنٹ کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔
Google یہ مثالیں بھی دیتا ہے کہ یہ ایجنٹ روزمرہ کام میں کس طرح شامل ہو سکتا ہے۔ 9to5Google ایک منظرنامے کا حوالہ دیتا ہے جس میں Workspace Intelligence کسی مینیجر کی ای میل کے ذریعے کی گئی اس درخواست کو پہچان لیتا ہے جس میں پروجیکٹ اپ ڈیٹ سلائیڈ ڈیک کی صورت میں مانگی گئی ہو، اور اسے Gemini کے حوالے کرنے کے لیے ایک کلک کا آپشن پیش کرتا ہے۔ ایک اور مثال میں صارف کسی کا نام لیے بغیر ساتھیوں کے ایک جانے پہچانے گروپ کے ساتھ میٹنگ کی درخواست کرتا ہے، اور Gemini ایک چیٹ اسپیس اور ایک پرانے تھریڈ سے شرکاء کا تعین کرتا ہے، کیلنڈرز چیک کرتا ہے اور وقت طے کرنے کے لیے ای میل تھریڈ شروع کرتا ہے۔ Google کا کہنا ہے کہ ذاتی معاون کے طور پر کام کرنے کے علاوہ یہ ایجنٹ کسی گروپ یا کسی مخصوص کردار کی جانب سے بھی کام کر سکتا ہے، اور اس کی مثال کے طور پر وہ کسی ٹیم کے پروجیکٹ مینیجر یا مالیات کے شعبے کے کسی تجزیہ کار کا ذکر کرتا ہے۔
Gemini ایجنٹ اس وقت صرف پرائیویٹ پری ویو میں انٹرپرائز صارفین کے لیے دستیاب ہے۔ 9to5Google کے مطابق یہ جلد ہی منتخب Business اور Enterprise پلانز والے Workspace صارفین کے لیے وسیع پیمانے پر دستیاب ہو جائے گا۔ The Verge نوٹ کرتا ہے کہ Google نے مئی میں ایک کنزیومر ایجنٹ، Gemini Spark، لانچ کیا تھا، جسے سبسکرائبرز Gemini ایپ کے اندر ایک الگ انٹرفیس کے ذریعے استعمال کرتے ہیں، اور اس کا خیال ہے کہ نیا ایجنٹ Google کے اس وسیع تر وژن کی طرف اشارہ کر سکتا ہے جس میں ایک ہی ونڈو سے سوالات کے جواب دینے اور کام کرنے والا اسسٹنٹ ہو۔
یہ کیوں اہم ہے
Gemini ایجنٹ کے ذریعے Google اداروں کو الگ الگ ٹولز کے مجموعے کے بجائے AI کی مدد سے ہونے والے کام کے لیے ایک ہی نقطۂ آغاز فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور وہ اس پروڈکٹ کو انٹرپرائز ضروریات کے گرد پیش کر رہا ہے: کمپنی کا کہنا ہے کہ ایجنٹ میں لاگت پر قابو پانے کے بلٹ اِن کنٹرولز کے ساتھ ساتھ وہ سیکیورٹی، انتظامی سہولیات اور گورننس بھی موجود ہیں جن کی انٹرپرائز صارفین کو ضرورت ہوتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق Gemini کے ساتھ Claude ماڈلز کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ Google کام کو اپنی ماڈل فیملی سے باہر کے ماڈلز تک بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ عملی طور پر یہ ایجنٹ طویل اور کئی مراحل پر مشتمل کاموں کو کتنی اچھی طرح سنبھالتا ہے، یہ ابھی واضح نہیں، کیونکہ یہ اب بھی پرائیویٹ پری ویو میں ہے اور وسیع تر دستیابی کے بارے میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ یہ جلد آئے گی۔
ٹائم لائن
· شائع شدہ
موضوعات#Google Cloud#Gemini#AI ایجنٹس#Google Workspace#انٹرپرائز AI
ذرائع
یہ خبر درج ذیل ماخذوں پر مبنی ہے۔ مکمل سیاق کے لیے انہیں پڑھیں۔



