NASA روانہ ہونے والے کارگو خلائی جہاز پر سوار 12 کیپسولز میں ہیٹ شیلڈ کے مواد کی آزمائش کر رہا ہے
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے رخصت ہونے والی Cygnus XL کارگو گاڑی میں 12 چھوٹے KREPE-3 کیپسول موجود تھے، جن کا مقصد یہ ریکارڈ کرنا ہے کہ تجرباتی حرارتی تحفظ کا مواد فضا میں دوبارہ داخلے کے دوران کیسا برتاؤ کرتا ہے۔

اہم نکات
- 1Northrop Grumman کے 24ویں NASA رسد رسانی مشن کی Cygnus XL جب خلائی اسٹیشن سے روانہ ہوئی تو اس میں 12 چھوٹے آزمائشی کیپسول موجود تھے۔
- 2KREPE-3 ایک ایسے سلسلے کا تیسرا تجربہ ہے جو کارگو گاڑیوں سے ان کی خدمت کے اختتام پر فضا میں دوبارہ داخلے کا ڈیٹا جمع کرتا ہے۔
- 3University of Kentucky کے طلبہ نے کیپسول ڈیزائن کیے، جو درجۂ حرارت، دباؤ، حرکت، مقناطیسی میدان اور روشنی کی پیمائش کرتے ہیں۔
- 4مواد میں شٹل کا سیرامک ٹائل مواد، 3D پرنٹ شدہ ہیٹ شیلڈ، MERINO غلاف اور Phenolic Impregnated Carbon Ablator شامل ہیں۔
- 5NASA کا مضمون منصوبہ بند پیمائشوں کو بیان کرتا ہے؛ اس میں ابھی تک کوئی نتائج رپورٹ نہیں کیے گئے۔
مکمل خبر
ادارے کے Ames Research Center کے ایک مضمون کے مطابق، NASA ایک کارگو خلائی جہاز کی تلفی والی پرواز کو مستقبل کی ہیٹ شیلڈز کے لیے مواد آزمانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ جب NASA کے لیے Northrop Grumman کے 24ویں رسد رسانی مشن کی Cygnus XL گاڑی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے روانہ ہوئی تو اس میں 12 چھوٹے تجرباتی کیپسول موجود تھے۔ NASA کا کہنا ہے کہ جہاز پر موجود مواد ایسی ہیٹ شیلڈز کی بنیاد بن سکتا ہے جو چاند اور مریخ سے واپسی کے سفر میں خلابازوں کو محفوظ رکھیں۔
KREPE-3، جو Kentucky Reentry Probe Experiment (کینٹکی ری اینٹری پروب تجربہ) کا مخفف ہے، ایک ایسے سلسلے کا تیسرا مشن ہے جسے NASA کم لاگت قرار دیتا ہے اور جو کسی کارگو گاڑی کی زندگی کے آخری لمحات میں ڈیٹا جمع کرتا ہے۔ اسے University of Kentucky اور ریاست کینٹکی مل کر NASA کے EPSCoR پروگرام (Established Program to Stimulate Competitive Research)، NASA کے کئی مراکز اور دیگر وفاقی و تجارتی شراکت داروں کے ساتھ چلاتے ہیں۔ University of Kentucky کے طلبہ نے یہ کیپسول ڈیزائن کیے، جن میں درجۂ حرارت، دباؤ، حرکت، مقناطیسی میدان اور روشنی کے سینسر نصب ہیں۔
Cygnus XL کی روانگی سے پہلے خلابازوں نے اس میں کچرا لادا اور کیپسولز کو آن کیا۔ منصوبے کے مطابق یہ گاڑی زمین کی فضا میں ٹوٹ کر بکھر جائے گی؛ NASA کا کہنا ہے کہ اس کے بعد کیپسول باہر نکال دیے جائیں گے اور ریکارڈ کریں گے کہ ہیٹ شیلڈ مواد کا ہر مجموعہ کس طرح برداشت کرتا ہے، جبکہ براہِ راست ڈیٹا سیٹلائٹ کے ذریعے محققین تک پہنچایا جائے گا۔ Ames میں مواد کے انجینئر Keith Peterson نے اس طریقۂ کار کو “ابھی زیرِ تیاری مواد پر پرواز کا ڈیٹا حاصل کرنے کا ایک دانشمندانہ طریقہ” قرار دیا۔
NASA کے مطابق کیپسولز میں آزمودہ ٹیکنالوجی، مثلاً اسپیس شٹل پر استعمال ہونے والا سیرامک ٹائل مواد، اور نئے متبادل دونوں شامل ہیں، جیسے 3D پرنٹ شدہ ہیٹ شیلڈ جسے NASA Johnson اور Oak Ridge National Laboratory نے Additive Manufacturing of Thermal Protective Systems (حرارتی حفاظتی نظاموں کی ایڈیٹو مینوفیکچرنگ) منصوبے کے تحت تیار کیا۔ Ames نے کئی مواد فراہم کیے، جن میں MERINO (Materials Engineered for Re-entry using Innovative Needling Operations) والے دو کیپسول شامل ہیں؛ یہ کاربن اور فینولک ریشوں کی تہوں سے بنے غلافوں کا ایک خاندان ہے جنہیں فیلٹ کی طرح آپس میں سیا جاتا ہے۔ NASA کا کہنا ہے کہ یہ روایتی مواد کے مقابلے میں زیادہ لچکدار، جلد تیار ہونے والے اور سستے ہیں، اس لیے یہ مریخ کے مشنز کے لیے موزوں امیدوار ہیں، جہاں پتلی فضا کا مطلب کم حرارتی بوجھ ہے اور ہلکا تحفظ ممکن ہوتا ہے۔
تیسرا کیپسول، Kentucky Instrumented Conical Hypersonic Experiment، دوہری مخروطی شکل کا ہے جس کی نوک ٹنگسٹن کی ہے اور پچھلا مخروط MERINO میں لپٹا ہوا ہے، اور اس کا مقصد کمپیوٹر ماڈلز کو ناپے گئے ڈیٹا سے پرکھنا ہے۔ ایک اور کیپسول زحل کے چاند ٹائٹن کے لیے NASA کے آئندہ Dragonfly مشن کے ایروشیل کی شکل کی نقل ہے، اس ڈیزائن کے استحکام کو جانچتا ہے اور Phenolic Impregnated Carbon Ablator سے ڈھکا ہوا ہے، جو Ames میں تیار کیا گیا مواد ہے اور Stardust، Mars Science Laboratory اور Mars 2020 پر پرواز کر چکا ہے۔ ایک مزید کیپسول چھتری نما Adaptable Deployable Entry and Placement Technology کو آزماتا ہے، اور ملکی و بین الاقوامی شراکت داروں کے کیپسولز میں جرمنی کی University of Stuttgart کا ایک ہیٹ فلکس سینسر بھی شامل ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
NASA کا کہنا ہے کہ آزمائے جانے والے مواد ایسی ہیٹ شیلڈز کی بنیاد بن سکتے ہیں جو چاند اور مریخ سے واپس آنے والے خلابازوں کی حفاظت کریں، اور یہ کہ براہِ راست ڈیٹا سے یہ ظاہر کرنے میں مدد ملنی چاہیے کہ بڑی ہیٹ شیلڈز مستقبل کے عملے یا سامان کے لیے کیا کر سکتی ہیں۔ Ames کے انجینئر Keith Peterson کے مطابق، ایک ایسی کارگو گاڑی پر سواری، جسے ویسے بھی تلف کیا جا رہا ہے، محققین کو زیرِ تیاری مواد پر پرواز کا ڈیٹا جمع کرنے کا موقع دیتی ہے۔ مضمون صرف منصوبوں کو بیان کرتا ہے: اس میں کوئی نتائج رپورٹ نہیں کیے گئے، اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ کیپسولز سے کتنا قابلِ استعمال ڈیٹا واپس ملنے کی توقع ہے۔
ٹائم لائن
· شائع شدہ
موضوعات#NASA#ہیٹ شیلڈز#فضا میں دوبارہ داخلہ#بین الاقوامی خلائی اسٹیشن#University of Kentucky
ذرائع
یہ خبر درج ذیل ماخذوں پر مبنی ہے۔ مکمل سیاق کے لیے انہیں پڑھیں۔



